اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق آیت اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی نے اتوار (3 اکتوبر 2010) کے روز فقہ کے درس خارج میں شریک علماء و فضلاء سے خطاب کرتے ہوئے مذہب شیعہ کے خلاف نئی سازش کی طرف اشارہ کیا اور کہا: "آپ سب نے سنا کہ حال ہی میں لندن میں مقیم ایک ان پڑھ مولوی نما شخص شیعہ کے نام سے بعض مذاہب کے مقدسات کی توہین کا مرتکب ہوا ہے، اس نے زوجات النبی (ص) میں سے ایک کو بعض عجیب ناروا تہمتوں کا نشانہ بنایا ہے اور بعض زوجات کو سب و شتم اور دشنام طرازی کا نشانہ بنایا ہے"۔انھوں نے کہا: "اس طرح کے افراد مذہب شیعہ کے نمائندے نہیں ہیں، یہ شخص ایجنٹ یا مأمور ہیے یا پھر سفیہ اور دیوانہ ہے مگر اس سے زیادہ نادان وہ وہابی علماء ہیں جنہوں نے اس کی یاوہ سرائیوں کو اپنے موقف کی بنیاد قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ "اس شخص کی باتوں سے اہل تشیع کا باطن آشکار ہوگیا ہے" حالانکہ سینکڑوں شیعہ علماء نے ایران، لبنان، عرب ممالک اور یورپ میں اس عالم نما شخص کی باتوں کی مذمت کی ہے اور سب نے یہی کہا ہے کہ وہ ایک سفیہ اور نادان شخص ہے۔انھوں نے کہا: وہابیوں کی نامعقولیت کی علامت یہی ہے کہ انھوں نے بزرگ شیعہ علماء کی طرف سے اتنی ساری مذمتوں کو نظرانداز کیا اور ایک سفیہ یا اجنبوں کے نوکر یا ایجنٹ کی باتوں کو دستاویز بنایا اور اس کی بنیاد پر تشیع کے خلاف موقف اپنایا! ہم کہتے ہیں کہ اس شخص نے غلط کہا ہے اور جھوٹ بولا ہے اور وہ ان پڑھ ہے لیکن وہابیوں نے اس کی بات کو سینے سے لگا لیا ہے! میں نے عقائد اور تفسیر اور دیگر علوم میں 140 سے زائد کتابیں لکھیں ہیں جن میں زوجات نبی (ص) کے خلاف ناجائز بہتان تراشی دیکھنے کو نہین ملتی مگر وہابیوں کے نزدیک ہماری باتیں سند نہیں ہیں جبکہ وہ اس کٹھ پتلی شخص کی باتوں کو سند مان رہے ہیں۔ آیت اللہ العظمی مکارم شیرازی نے اسلام کے خلاف استکبار و استعمار کی پیچیدہ سازشوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: ممکن ہے کہ لندن میں بود و باش رکھنے والے اس شخص نے بھی اجنبی قوتوں کے کہنے پر یہ اقدام کیا ہو اور حجاز کے وہابیوں نے بھی اسی سازش کے نتیجے میں یہ موقف اپنایا ہو؛ دونوں ہاتھوں میں ہاتھ دے کر مسلمانوں کو دست بگریباں کردینا چاہتے ہیں تا کہ اجنبی قوتیں اپنے کام میں مصروف ہوجائیں اور اس علاقے سے اپنے مفادات حاصل کرسکیں اور یہاں کے وسائل اور مال و دولت سمیٹ کر لے جاسکیں۔انھوں نے کہا: وہابیوں نے اپنی تشہیری مہم میں اہل تشیع سے کہا تھا کہ "اگر لندن میں بیٹھے شخص کی باتیں مذموم ہیں تو پھر شیعہ مراجع تقلید نے کیوں رد عمل نہیں دکھایا؟" جبکہ ہم سب نے اس کی مذمت کی اور ہم نے کہا کہ ہم زوجات نبی (ص) کی کسی قسم کی توہین جائز نہیں سمجھتے کیونکہ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی بالواسطہ توہین ہے اور ہمارا یہ موقف ولایت سیٹلائٹ چینل سے بھی نشر ہوا۔ آیت اللہ العظمی مکارم شیرازی نے سوالیہ انداز میں کہا: کیا وہابی بھول گئے ہیں کہ امام خمینی نے سلمان رشدی کو مرتد قرار دیا؟ کیونکہ اس کی کتاب "شیطانی آیات" کا بڑا حصہ رسول اللہ (ص) کی زوجات کی توہین پر مبنی ہے۔ مگر وہابیوں نے سلمان رشدی کی مذمت نہیں کی بلکہ ہمارے امام راحل (رحمۃاللہ علیہ) نے اس کی مذمت کی؛ اب وہابی ان سب حقائق کو نظرانداز کرتے ہیں اور ایک پاگل شخص کی بات کو دستاویز قرار دیتے ہیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہابی منطق سے عاری ہیں۔ جبکہ اہل سنت کے بعض علماء نے ہمارے مذمتی بیانات کو دیکھا اور انہیں دیکھ کر خوشنودی کا اظہار کیا۔ آیت اللہ مکارم شیرازی نے امید ظاہر کی کہ مسلمان متحد ہوجائیں، دشمنوں کی سازشوں کا شکار نہ ہوں جو ہمیں آپس میں لڑانا چاہتے ہیں۔ یاد رہے کہ سابق کویتی فوجی اور موجودہ شیخ یاسر ـ جو اس وقت لندن میں بیٹھا ہے اور برطانوی حکومت نے اس کو ہر قسم کی سہولیات بھی دے رکھی ہیں ـ نے سترہ رمضان المبارک کو زوجہ رسول (ص) پر ناروا بہتان تراشی کی تھی چنانچہ شیعہ «شیخ عَمری»، «شیخ حسین معتوق»، «شیخ حسن صفار»، «شيخ علي آلمحسن»، «شیخ عبدالجليل السمين»، «شیخ نمر» اور «سيد ہاشم السلمان» سمیت بہت سے شیعہ علماء نے اس کے موقف کی شدید مذمت کی اور آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے بھی اس توہین زوجات رسول (ص) کی حرمت کا فتوی دیا لیکن برطانوی حکومت اور اس ملک کے نام نہاد انسانی حقوق کی تنظیمیں اس فتنہ پرور شخص کی حمایت کررہی ہیں۔............/110
- آیت اللہ العظمی خامنہ ای کا فتوی؛ شیخ الازھر نے حمایت کردی / استفتاء اور فتوی کا متن
- رہبر انقلاب کے فتوی نے وہابی / صہیونی سازش کو ناکام بنادیا
- رہبر انقلاب کا فتوی؛ عرب دینی راہنماؤں کا خیر مقدم
- رہبر انقلاب کے فتوی نے وہابی / صہیونی سازش کو ناکام بنادیا
- رہبر انقلاب کا فتوی؛ عرب دینی راہنماؤں کا خیر مقدم
- آیت اللہ العظمی خامنہ ای کا فتوی تکلف نہیں بلکہ یہ اتحاد اسلامی پر آپ کے یقین کی علامت ہے
- آیت اللہ العظمی خامنہ ای کا فتوی؛ عالم اسلام کا زبردست خیر مقدم